علماء سُو: قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک جائزہ ،تحریر: رضوان اشرف
علماء سُو: قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک جائزہ
تحریر: رضوان اشرف
مسلمانوں کے معاشرے میں عالمِ دین کی حیثیت ایک رہنما اور اصلاح کرنے والے کی ہے۔ اب چونکہ قومی ریاستیں وجود میں آنے سے مذہب اور ریاست الگ الگ ہیں اور ہر طرح کے مساہل کا حل ریاستی ادارے کرتے ہیں پھر بھی جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں وہ اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ قرآن و سنت میں علماء حق کی عظمت بیان کی گئی ہے ۔ علماء حق یعنی ایسے افراد جو دین کا علم و فہم رکھنے والے ہوں جو تمام اسلامی اصولوں کو اپنا شعار بناتے ہوں۔ علماء حق کو انبیاء کا وارث اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ سماج کو راست بازی پر رکھتے ہیں اور یقیناً علماء حق کا سماج میں کلیدی کردار ہوتا ہے۔
لیکن اس کے برعکس کچھ ایسے لوگ بھی تاریخِ اسلام میں سامنے آئے اور آج بھی موجود ہیں جوعلمِ دین کو دنیا کمانے، جاہ و منصب حاصل کرنے یا حکمرانوں کی خوشنودی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو قرآن و حدیث میں علماء سُو یعنی بُرے علماء کہا گیا ہے۔
قرآن حکیم میں جگہ جگہ اس تناظر میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی توجہ دلائی ہے اور متعدد مقامات پر ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جوعلم رکھتے ہوئے بھی اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
ایسے علماء جو حق کو چھپاتے ہیں ، جو اپنے علم کو محض دنیاوی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اور حق جانتے ہوئے بھی باطل کا ساتھ دیتے ہیں انکے لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں جگہ جگہ تنبیہ فرماتے ہیں۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ "بے شک جو لوگ ان کھلی کھلی باتوں اور ہدایت کو جسے ہم نے نازل کر دیا ہے اس کے بعد بھی چھپاتے ہیں کہ ہم نے ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں بیان کر دیا، یہی لوگ ہیں کہ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں (البقرہ: 159)
سورۃ النخل میں بھی فرمایا گیا کہ "اور اللہ کا عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر مت بیچو"۔
احادیث مبارکہ میں بھی علماء سُو کی نشاندہی کی گئ ہے اور اُنہیں سخت عذاب سے متنبہ کیا گیا ہے۔ ترمذی میں حدیث نقل کی گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
جو شخص علم اس لیے حاصل کرے کہ اس کے ذریعے علماء سے جھگڑ سکے، جاہلوں کو مرعوب کرے یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائے تو اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔
مسند احمد میں ایک دوسری حدیث نقل کی گئی ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخر زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دین کو دنیا کے بدلے بیچیں گے، لوگوں کو خوش کرنے کے لیے بھیڑ کی کھال اوڑھیں گے جبکہ ان کے دل بھیڑیوں جیسے ہوں گے۔
طبرانی میں ایک اور حدیث ہے کہ
قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس عالم کو ہوگا جس کو اللہ نے اپنے علم سے نفع نہ دیا ہو۔
تو گزارش کا مقصد یہ تھا کہ آج سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی بدولت رابطوں میں آسانی ہے اور دنیا بھر کے حالات ہر اُس شخص کو باآسانی معلوم ہو جاتے ہیں جو انٹرنیٹ سے جُڑا ہوا ہے۔ آج ہم پوری دنیا میں اسلام کے ماننے والوں کی حالتِ زار دیکھ رہے ہیں۔ جہاں جہاں ظلم، جبر، جہالت، ناانصافی، کرپشن، فرقہ واریت اور تشدد عروج پر ہے ان سبھی سماجوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو دیگر بے شمار وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ علماء سُو ہیں جو حکمران طبقے کی خوشامد اور اپنی مراعات و عیاشیوں کے لیے دین بیچ کر امت کو گمراہ کرتے ہوئے حکمران طبقے کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔
دین کو تجارتی منڈی کی ایک بکنے والی چیز بناتے ہوئے دین فروشی ایک باقاعدہ صنعت بن چُکی ہے۔ فرقہ واریت ، مسلکی تعصبات کو علماء سُو ہی بڑھاوا دے کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ عوام کو اصل دین سے دور رکھ کر رسوم و روایات میں الجھانا جس میں موجودہ وقت میں قبر ، پیر پرستی اور سُود سر فہرست ہے کو علماء سُو ہی سہارا دے کر مذہبی رنگ رنگتے ہوئے معصوم عوام کو ورغلانے ہیں۔ آج ہر کہیں علماء سُو ظالم حکمرانوں کی مدح سرائی میں مصروف ہو کر انکے مظالم پر خاموش تماشائی ہیں۔ علماء سُو یعنی دین کے بے عمل اور گمراہ نمائندوں ہی کی وجہ سے مسلمان معاشرے تقریباً ہر کہیں پر زوال کا شکار ہیں۔
اس لیے ہر ذی شعور پر فرض ہے کہ قرآن و سنت سے خود تعلق پیدا کرے تاکہ علماء حق اور علماء سُو کی پہچان کرتے ہوئے علماء حق کے ساتھ کھڑے ہوں اور علماء سُو کی ہر چوک چوراہے اور مسجد میں مذمت کریں تاکہ ایسے گھناؤنے کرداروں کا تدارک ہو سکے۔ ایسا سلسلہ بنایا جانا چاہیے جس میں علماء کو بھی ان کے کردار اور اعمال پر جواب دہ بنایا جائے۔ علماء کو یاد رکھنا چاہیے کہ دین دنیاوی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور انسانیت کی فلاح کے لیے ہے۔
مختصرا علماء حق معاشرے کے لیے چراغ ہیں، لیکن علماء سُو اندھیرا اور تباہی ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ایسے علماء نہ صرف اپنی آخرت خراب کرتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو گمراہی اور زوال کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ اس کا علاج صرف اور صرف علماء حق کی پہچان اور ساتھ، حق کی پیروی، تقویٰ، علم کے ساتھ عمل اور عوامی شعور کی بیداری ہے۔
Comments
Post a Comment