افسانہ: فوجی کا کُتا



افسانہ 



قلمکار: رضوان اشرف 


علی اپنی آنکھوں میں آنسو لیے سڑک کے کنارے  انتہائ بیچارگی کے عالم میں اپنے کُتے کی لاش کے پاس کھڑا تھا۔ کسی بے رحم گاڑی والے نے علی کے پیارے کُتے کی جان لے لی تھی۔ بارہ سالہ علی میجر جمروز کی اکلوتی اولاد تھی اور بہت نازوں میں پلا بڑھا تھا۔ علی کو کُتوں سے بے انتہا محبت تھی اور اُسی کی ضد پر میجر جمروز نے اپنے سینئر اور دوست جنرل طاہر کے توسط سے جرمن شیفڈ نسل کے کُتوں کا ایک جوڑا دبئ سے منگوایا تھا۔ ایک کُتا گھر پہنچنے کے کچھ ماہ بعد بیماری سے مر گیا جبکہ دوسرے کُتے کو چار سال سے علی پال رہا تھا اور اسکا نام اس نے جیکی رکھا ہوا تھا۔ جیکی کی موت علی کی زندگی کا پہلا دُکھ تھا اور وہ انتہائ غمگین تھا۔ اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے۔ 

کافی دیر سے علی جیکی کو تلاش کر رہا تھا اور کہیں نہ پا کر گھر کے پاس مین روڈ پہ نکلا تو اسے یہ انتہائی دُکھ دہ منظر دیکھنے کو ملا جس کا اُس نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ علی سوچ رہا تھا کہ جیکی کو مارنے والا بدبخت ڈرائیور اُسے مل جائے تو وہ لمحہ بھر میں اُسکی جان لے لے۔ 


علی اسی دُکھ میں مبتلا کھڑا تھا کہ میجر جمروز اپنے ملازم کے ساتھ علی کو ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچا۔ باپ کو دیکھ کر علی کے بے بسی والے جذبات غصے میں بدل گئے اور وہ انتہائ جذباتی انداز میں اپنے باپ سے کہنے لگا کہ پاپا! ان بدبختوں کو گاڑی چلانا نہیں آتی تو سڑک پر کیوں آتے ہیں؟ انکی آنکھیں کام نہیں کرتیں کیا ؟ کم از کم جیکی کو دیکھنے رُک تو سکتا تھا؟ اپنے سینے میں دل نہیں تھا تو کسی کو آواز تو دے کے بتا سکتا تھا ؟ ایسے ہی منہ اُٹھا کے بھاگ گیا ۔۔۔ پاپا! مجھے جیکی کو مارنے والا ڈرائیور چاہیے ، ہر حال میں !! 


میجر جمروز نے بیٹے کو دلاسا دیا اور وعدہ کیا کہ وہ اُس ڈرائیور کو ضرور ڈھونڈے گا۔ اپنے ملازم کو کُتے کی لاش پھینکنے کا کہہ کر وہ علی کی طرف بڑھا تو علی بڑھک اُٹھا کہ جیکی کو پھینک دیں ؟؟ یہ کسی ایرے غیرے کا کُتا ہے؟ یہ میجر جمروز کے بیٹے کا کُتا ہے، میرا کُتا ہے!  پھر اُس نے تقریباً حکم سنایا کہ اسے دفنایا جائے۔ ملازم کُتے کو دفنانے لے جانے لگا تو علی کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہنے لگیں۔ میجر جمروز بھی رنجیدہ ہو گیا اور اُسے بانہوں میں لیے دلاسے دیتے ہوئے گھر کی طرف چل پڑا۔ گھر پہنچ کر علی اپنی ماں سے لپٹ کر خوب رویا اور ضد شروع کر دی کہ جیکی کو مارنے والے ڈرائیور کے خلاف پولیس رپورٹ کروائ جائے۔ 

میجر جمروز نے مجبوراً قریبی تھانے فون کیا اور رپورٹ لکھوائ۔ کُتے کا نام، رنگ نسل وغیرہ سب پوچھا گیا اور میجر جمروز نے علی کے سامنے پولیس انسپکٹر سے کہا کہ ملوث ڈرائیور کو جلد از جلد تلاش کیا جائے، آج اگر اُس نے ہمارا کُتا مارا ہے تو کل انسان کو بھی مار کر بھاگ سکتا ہے۔

رات کھانے کے بعد علی ہمیشہ جیکی کو ساتھ لے کر واک پہ جاتا تھا مگر آج اُس کا دل بہلانے میجر جمروز خود اُسکے ساتھ گیا۔ واک کے دوران علی نے پوچھا کہ پاپا یہ ڈرائیونگ لائسنس کیسے ملتا ہے؟ حکومت کیسے کسی بھی شخص کو سینکڑوں لوگوں کے بیچ گاڑی چلانے کی اجازت دیتی ہے؟ 

علی کے اس سوال پر میجر جمروز کا ماتھا ٹھنکا، اُسے یاد آیا کہ جب وہ ایک دفعہ ایک کورس کے لیے امریکہ گیا تھا تو وہاں ٹریفک قوانین کی کتنی پابندی کی جاتی تھی مگر یہاں تو صورتحال بالکل مختلف تھی ، یہاں ٹریفک قوانین سے حتی کہ حکومت بھی قطعا لاعلم تھی۔ اُس نے بیٹے کے سوال سے جان چھڑاتے ہوئے اُسے مختصر جواب دیا کہ یہاں سینئر سپرانٹینڈینٹ پولیس یعنی ایس ایس پی کے دفتر سے لائسنس جاری ہوتا ہے۔ لائسنس دینے سے پہلے ڈرائیونگ کی ٹریننگ بھی ہوتی ہے ؟ علی نے دوبارہ سوال کیا۔ علی کے سوال پر میجر جمروز خاموش رہا اور سوچنے لگا کہ وہ اسے کیا جواب دے۔ اُسے پتہ تھا یہاں کونسی ڈرائیونگ ٹریننگ ہوتی ہے یا ڈرائیونگ ٹیسٹ کے بعد لائسنس ملتا ہے۔ ایسا تو یہاں دُور دُور تک کوئ سرکاری پروسیس نہیں ۔ علی کو ٹالنے کے لیے میجر جمروز اُسے کہنے لگا کہ گھر پہ آرام سے بیٹھ کر باتیں کریں گے، آپ بتاؤ پڑھائ کیسی جا رہی ہے؟ ادھر اُدھر کی باتیں کرتے ہوئے وہ علی کو روٹین سے جلدی ہی واپس گھر لے آیا۔ 

میجر جمروز علی کے سوالات سے پریشان ہو رہا تھا اُس نے سوچا کہ کل تک علی کچھ بہل جائے گا اس لیے اُس نے اپنی خرابی طبعیت کا بہانہ بنایا اور علی کو سونے کے لیے کہہ کر خود بھی سونے چلا گیا۔ 


علی بستر پر لیٹا ہوا سونے کی کوشش کر رہا تھا کہ رات کی خاموشی میں دُور کسی کُتے کے بھونکنے کی آواز دوبارہ اُسے جیکی کی یاد دلانے لگی اور وہ اُٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اُسے یاد آیا کہ جب دبئ سے یہ کُتے آئے تھے تو کچھ ماہ بعد ایک کُتے جس کا نام ٹومی تھا نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور ایک صبح وہ مرا ہوا پایا گیا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ کاش کوئ ڈاکٹر ہوتا اور ٹومی بچ جاتا تو آج کم از کم جیکی کی اتنی شدت سے کمی محسوس نہ ہوتی۔ اُس نے تہیہ کیا کہ کل وہ پاپا سے جیکی کے قاتل کی اپڈیٹ لے گا اور پوچھے گا کہ ٹومی کا علاج کیوں نہ کروایا گیا ؟ یہی سوچتے سوچتے اُس کی آنکھ لگ گئ۔ 


صبح ملازم نے علی کو سکول جانے اُٹھایا تو علی نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اُسے جیکی کے قاتل کو ڈھونڈنا ہے اس نے ملازم کو حکم دیا کہ پاپا تیار ہو جائیں تو مجھے بتانا۔ 


کیوں صاحب بہادر، آج سکول سے ناراض ہو؟ میجر جمروز نے علی کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔ علی نے رو ہانسی صورت بناتے ہوئے اپنے والد کو بتایا کہ پاپا مجھے آج آپکے ساتھ پولیس سٹیشن جانا ہے تاکہ جیکی کے قاتل کا کچھ پتہ چل سکے۔ میجر جمروز نے اُسے بہلا پھسلا کر سکول جانے کی کافی کوشش کی لیکن بے سود، علی کی تو صرف ایک ہی رٹ تھی کہ جیکی کے قاتل کو ڈھونڈا جائے۔ 


میجر جمروز علی کو لے کر پولیس اسٹیشن پہنچا اور محرر سے اپنے کُتے کے قتل بارے درج کروائ گی رپورٹ کے بارے میں پوچھا کہ قاتل ڈرائیور کا کچھ پتہ چلا کہ نہیں۔ محرر نے میجر صاحب سے خیر عافیت دریافت کرنے کے بعد انہیں بتایا کہ یہ کیس انسپکٹر وسیم ڈیل کر رہے ہیں پھر اُس نے ایک سپاہی کو آواز دیتے ہوئے کہا کہ میجر صاحب کو انسپکٹر وسیم سے ملوائیں۔ سپاہی میجر جمروز اور علی کو انسپکٹر وسیم کے دفتر میں لے گیا۔ انسپکٹر وسیم میجر جمروز کو دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا ، انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے ہاتھ ملایا اور بیٹھنے کو کہا۔ سپاہی کو آواز دے کر چائے لانے کا کہتے ہوئے انسپکٹر وسیم سامنے بیٹھے ہوئے دو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر انہیں کہنے لگا کہ آپ کچھ دیر باہر انتظار کریں میں آپکو دوبارہ بُلاتا ہوں ، وہ دونوں  افراد خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئے۔ 

انسپکٹر وسیم میجر جمروز کے گاؤں کا ہی تھا اور اُن کا دُور کا رشتہ دار بھی تھا۔ گلہ صاف کرتے ہوئے اُس نے میجر جمروز اور علی سے خیریت دریافت کی اور علی سے جیکی کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا۔ علی کے استفسار پر انسپکٹر وسیم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اُسے بتایا کہ ابھی تک قاتل ڈرائیور کا کچھ اتہ پتہ نہیں چل سکا مگر اُس نے علی کو اُمید دلائ کہ وہ جلد ہی اُسے پکڑ لیں گے۔ علی کا جیسے دل بیٹھ سا گیا وہ بھرائ ہوئ آواز میں میجر جمروز سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ، پاپا! قاتل کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا مطلب جیکی جیسے کوئ جاندار چیز ہی نہیں تھی؟ جیکی کو کسی نے مارا ہی نہیں ؟ علی وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے باپ سے سوال پر سوال کرنے لگا۔ 

میجر جمروز نے وسیم سے پوچھا کہ ابھی تک اس ضمن میں کیا کاروائ کی گئ، قاتل کو ڈھونڈنے بارے کیا کاوش ہوئ؟ 

انسپکٹر وسیم میجر جمروز کے سوال پر جیسے چونک کر کہنے لگا میجر صاحب ! آپ جانتے ہیں کہ یہاں نہ تو کوئ ڈرائیونگ کا اصول ہے اور نہ ہی سڑکوں پر کیمرے لگے ہیں نہ کوئ عینی شاہد ہے پھر ہم روڈ پر ایک کُتے کو مارنے والے کسی ڈرائیور کو کیسے پکڑ سکتے ہیں ؟ 

میجر جمروز وسیم کا جواب سن کر ناگواری کے انداز میں بولا اگر کل کسی انسان کو مار دیا گیا تو ؟ آپکے پاس یہی جواب ہو گا يا آپ نے کسی رشوت کے بغیر کوئ کام نہیں کرنا ؟ انسپکٹر وسیم میجر جمروز کے ناگوار لہجے اور رشوت کے الزام  کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا، میجر صاحب ! آپ اسی علاقے کے ہیں اور ہر چیز اچھی طرح جانتے ہیں کہ  یہاں انسانوں کے لیے کوئ نظام موجود نہیں ہے اور آپ عجیب شخص ہیں کہ کُتے کے کیس کا فالو اپ کر رہے ہیں۔ وسیم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپکے سامنے جو دو آدمی میں نے باہر بھیجے اور ابھی تک باہر انتظار کر رہے ہیں اُن کے گاؤں کے پانچ لوگ ڈیم میں ڈوب گئے اور ہماری حکومت کے پاس اُنکو بچانا تو دور نعشوں کو تلاش کرنے کا کوئ سسٹم موجود نہیں ہے اور ڈوبنے والوں کا خاندان گاؤں والوں سمیت مین چوک میں دھرنا دیے احتجاجاً بیٹھے ہیں اور بار بار بے قراری میں یہ سوچ کر سرکاری دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں کہ شاید ہم لوگ ان کی کچھ مدد کریں گے۔ مگر ہمارے پاس کیا ہے انکی مدد کرنے ؟ ہم انہیں سوائے مزید خوار کرنے کے کیا کر سکتے ہیں ؟ شرم آتی ہے واللہ ان لوگوں کا سامنا کرتے ہوئے بھی ، یہ نظام انہی لوگوں کے ٹیکس کے پیسوں پر چل رہا ہے لیکن عوام کی مدد کی بجائے یہ نظام نہ صرف ان پر بوجھ ہے بلکہ عوامی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے۔ اس نظام میں لوگ آٹے اور بجلی کے لیے اپنا لہو گرانے پہ مجبور ہیں اور آپ اپنے کُتے کی موت کا ذمہ دار ڈھونڈ رہے ہیں جبکہ ان عوامی محرومیوں اور اس بوسیدہ نظام کے عیاش مجرموں کا پتہ ہوتے ہوئے بھی ہم کچھ نہیں کر پا رہے ۔ 


میجر جمروز نے کندھے اُچکاتے ہوئے انسپکٹر وسیم سے پوچھا کہ یہ سب آپ مجھے کیوں بتا رہے ہیں ؟؟ میرا اس سب سے کیا لینا دینا؟؟ 


وسیم نے بُھنا کر جواب کی بجائے نئے سوال داغنا شروع کر دئیے کہ میجر صاحب ! یہ بتائیے کہ کون سا ادارہ ہے جس میں آپ کی فوج کی مداخلت نہیں ہے؟ کون سا ادارہ ہے جو اپنا کام کرنے کا اور اپنے کام میں بہتری لانے کا سوچتا ہے ؟ پھر آپ اس بوسیدہ نظام کو اپ گریڈ کیوں نہیں کرنے کی کوشش کرتے تاکہ ہم عوامی خدمت کے ساتھ ساتھ وقت آنے پر آپکے کُتے کے قاتل کو بھی ڈھونڈ سکیں۔ 


ہم کون سے ادارے میں مداخلت کرتے ہیں ؟ میجر جمروز نے وسیم کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔ آزادکشمیر کا محکمہ صحت آپکی فوج کے پاس نہیں ؟ ٹیلی کمیونیکیشن آپ کے پاس نہیں ؟ وزارت داخلہ آپ کے پاس نہیں ؟ محکمہ خوراک آپ کے پاس نہیں ؟ سیاحت آپکے پاس نہیں ؟معدنیات اور اطلاعات کے ادارے بھی آپکے پاس نہیں ؟ کوئ ایک ادارہ مجھے بتائیں جس میں آپکی مداخلت نہیں ؟ وسیم نے جذباتی انداز میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب سارے اداروں کا کنٹرول آپ کے پاس اور اداروں میں کرپشن کا نظام کون رائج کر رہا ؟ آپ مجھ سے پوچھ رہے کہ میں رشوت کے بغیر کام نہیں کرنا چاہتا تو مجھے بتائیں کہ ایک پولیس والے کو آج بھی دن کے کھانے کے 36 روپے سرکار سے ملتے ہیں ، کیا آپ نے یا آپکے جنرلوں نے کبھی اپنے کاروبار کے علاوہ کچھ سوچا ہے؟ 

ایک ہم ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی بنیادی حقوق کی آواز بلند کرنے والوں کو بھی آپ ہی کے کہنے پر غدار کہہ کر آنسو گیس کی شیلنگ پہ مجبور ہیں ۔ 

پولیس کا محکمہ وزارت داخلہ کے ماتحت ہے یعنی اسے بھی آپ فوجی کنٹرول کر رہے ہیں اور اس محکمے کے نظام کا حال یہ ہے کہ فنگر پرنٹس کا سسٹم تو دُور بنیادی چیزوں کی فارنسک لیب کا کسی کو کوئ اتہ پتہ نہیں ، ہمیں بنیادی رپورٹس بھی دو ہفتے انتظار کر کے لاہور سے لینی پڑتی ہیں تب تک مجرم کئ اور جُرم کر کے مزے سے فرار ہو چُکا ہوتا ہے۔ کھوجی کُتے معزز ممالک میں کسی کیس کی تفتیش میں بطور ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں مگر یہاں آپ ہی کے آرمی سینٹرز سے ٹرینڈ شدہ کُتوں کو تفتیش کا ایک آلہ سمجھنے کی بجائے باقاعدہ جج کا عہدہ ملا ہوا ہے  شاید اس لیے کہ چونکہ وہ آپکے معزز آستانے سے ٹرینڈ شدہ ہوتا ہے؟ 

میجر جمروز لاجواب ہو کر خاموش رہا تو انسپکٹر وسیم نے اپنی بات جاری رکھی کہ میجر صاحب مجھے آپکے کُتے کی موت پر آپکے بیٹے سے ہمدردی ہے مگر ہمارا بھی دُکھڑا سنیں اور ان اداروں کی حالتِ زار پر بھی تو رحم فرمائیں ورنہ یہ ادارے محکمہ زراعت کی طرح اپنا وجود تک قائم نہیں رکھ پائیں گے۔ لوگ پولیس سے نفرت کرنے لگے ہیں کہ اب پولیس منشیات بیچ رہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ منشیات ہمارے پاس کہاں سے آتی ہے؟ ہنڈی کا دھندہ خود بند کرنے کے باوجود فوجی گاڑیوں میں رقم پاکستان سے آزادکشمیر میں کون لاتا ہے؟ فوجی گاڑیوں میں منشیات کون لاتا ہے؟ 


اچانک علی نے تقریباً چیختے ہوئے کہا کہ پاپا! یہ انکل کیا کہہ رہے ہیں ؟ کیا فوج یہ سب کام کر رہی ہے؟ آپ تو کہہ رہے تھے کہ فوج مُلک کی حفاظت کر رہی ہے ؟ پھر یہ سب کیا ؟ 


وسیم نے علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حفاظت صرف کتابوں اور اخباروں میں ہو رہی ہے لیکن حقیقت بہت ڈراؤنی ہے۔ 

میجر جمروز تلخ لہجے میں بولا کہ ٹھیک ہے آپ کے مطابق فوج سب کام کر رہی ہے تو آپ کونسے دودھ کے دھلے ہو؟ پولیس کیا نہیں کر رہی؟ باقی ادارے بھی تو سب پولیس کی طرح کرپٹ ہیں اکیلا فوج کو دوش دینا کونسا انصاف ہے ؟ 

وسیم نے تیز لہجے میں بولنا شروع کر دیا پولیس سے آپکو شکوہ ہے مگر مجھے یہ بتائیے آئ جی کو کون تعینات کرتا ہے؟ چیف سیکرٹری کون بھیجتا ہے؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ اس قانون ساز اسمبلی کو کون چلا رہا ہے؟ کیا آپ واقعی جی اور سی مری کی طاقت سے ناآشنا ہیں ؟ 

میں ایک پڑھا لکھا اور حقیقت پسند انسان ہوں ، وسیم نے اپنی بات جاری رکھی۔ میں جانتا ہوں کہ اپنی جگہ ہر ایک کرپٹ ہے مگر سوال یہ ہے کہ جب ان سارے اداروں کا ڈائریکٹ و انڈائریکٹ کنٹرول آپ کے پاس ہے، جب حکومتیں آپ اپنی مرضی سے بناتے گراتے ہیں تو سوچنا بھی آپ کو چاہیے کہ معذور ادارے عوام پر بوجھ نہیں بنیں گے تو اور کیا ہو گا؟ ہر محکمہ بانجھ ہو چُکا اور ہر سرکاری ملازم سیاسی کارکن بن چُکا پھر اس سارے عمل کے بعد آپ کو کسی ادارے سے خیر کی توقع کیسے ہو سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ رشوت  بغیر لکھے سب سے بڑا قانون بن چُکا ہے۔ 

میجر جمروز خاموش رہا تو وسیم نے علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بیٹے ! حقائق تلخ ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس نظام نے عوام کی فلاح کی بجائے عوام کو پسماندہ رکھنے اور خوار کرنے کا حلف لیا ہوا ہے۔ اس نظام میں بہتری کی بجائے اس پر کرپٹ، بدکردار اور عیاش قسم کے لوگوں کو رشوت کے طور پر  بٹھایا جاتا ہے تاکہ اس نظام میں بہتری کی نہ تو کوئ گنجائش ہو اور نہ ہی کوئ بہتری سوچنے والا فیصلہ سازی تک پہنچ سکے۔ انسپکٹر وسیم نے علی کو سمجھانے والے انداز میں اپنی بات جاری رکھی کہ بیٹے ! آپ اپنے کُتے کو رو رہے ہو مگر یہ دیکھو کہ ہمارے گاؤں و تحصیلوں میں انسانوں کے لیے بنیادی مراکز صحت  اولاً موجود ہی نہیں اگر موجود ہیں تو سٹاف و ادویات میسر نہیں بلکہ اکثر ایسا ہو رہا ہے کہ ادارے بند پڑے ہیں اور عملہ مفت کی تنخواہ لیتا ہے اور کاغذوں میں عوام کی شب و روز خدمت ہو رہی ہے۔ پھر اگر کوئ ضلع ہسپتال تک پہنچ بھی جائے تو وہاں جو حالت ہے وہ مریض اور اسکے ساتھ جانے والوں کو مزید پریشان کرتی ہے۔ یعنی ہمارا ضلعی ہسپتال عملاً ایک ریفر کرنے کا سینٹر ہے یعنی ایک اڈا ہے جہاں سے مریضوں کو صرف پاکستان کے شہروں میں ریفر کرنے کی پرچی کاٹ کے دی جاتی ہے۔ 

شاہرات کا محکمہ ہے تو روڈ سیفٹی تو دُور کی بات ایسی روڈ بناتا ہے جس پہ گدھے چلنے سے قاصر رہتے ہیں بلکہ اکثر روڈز پہ تو چند ماہ میں گھاس اُگ آتی ہے ۔ وسیم نے علی سے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ اب آپ ہی بتاؤ جب انسانوں کے ساتھ یہاں یہ سب ہو رہا ہے تو آپ کے کُتے کی حفاظت کیسے ممکن ہے ؟ 

یہاں انسان بنا دوائ کے مر رہے ہیں لوگوں کے مفید پالتو جانوروں وہ جانور جو لوگ دودھ اور گوشت کے لیے پالتے ہیں اُنکی صحت و حفاظت کا کوئ بندوبست نہیں ، انسانوں کی صحت و حفاظت کا کوئ بندوبست نہیں تو وہاں آپ کا کُتا کیسے محفوظ رکھوں میں ؟؟ 


وسیم نے اُسے بتایا کہ پچھلے ہفتے ساتھ والے گاؤں کی ایک خاتون ضلعی ہسپتال کے گائنی وارڈ میں داخل تھی، ڈاکٹرز نے اُس کے اہلِ خانہ کو پیسے بٹورنے کے لیے جھوٹ موٹ بول کر ڈرایا کہ اس کی نارمل ڈیلیوری نہیں ہو سکتی بچے یا ماں کی موت کا خدشہ ہے لہذا آپریشن کرنا پڑے گا اور آپریشن کا ایک لاکھ خرچ آئے گا جلدی بندوبست کرو۔ مرتے کیا نہ کرتے اُن معصوم لوگوں نے پیسوں کا بندوبست کیا مگر آپریشن کے بعد ڈاکٹر کے غلط انجیکشن لگانے کی وجہ سے اُس خاتون کی موت ہو گئ۔ لواحقین لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج کرتے رہے مگر ڈاکٹر چونکہ وزیر کی رشتہ دار تھی اور ہسپتال کا میڈیکل سپرانٹینڈنٹ اُسی پارٹی کا چاپلوس سیاسی کارکن تھا تو معاملہ رفع دفع کروا دیا گیا۔ جانتے ہو کہ اس محکمے یعنی محکمہ صحت کا کرتا دھرتا کون ہے؟ علی نے نفی میں سر ہلایا تو وسیم بولا کہ محکمہ صحت کا کرتا دھرتا سیکرٹری صحت ہے جو کہ آپ کے پاپا کا دوست اور حاضر سروس بریگیڈئیر ہے۔ 


علی نے حیرت سے میجر جمروز کی جانب دیکھا اُسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ سب کیا ہے، اُسکا دماغ بھونچکا رہا تھا اُسے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئ بہت بھاری چیز اُس کے سر پر گر رہی ہو۔ انسپکٹر وسیم کی جانب سے بتائی جانے والے تلخ حقائق اُس کے لیے بہت بھیانک اس لیے بھی تھے چونکہ اس سارے عمل میں اُسے اُس کا باپ بھی برابر کا مجرم نظر آ رہا تھا۔ ہسپتال میں خاتون کی موت تو ڈاکٹر کے ہاتھوں ہوئ مگر اس محکمے کا ذمہ دار ایک فوجی افسر ہے تو اُسکا ایکشن نہ لینا قتل میں برابری کی شراکت داری کا ثبوت ہے۔ 


میجر جمروز نے گلہ صاف کرتے ہوئے انسپکٹر وسیم کو آہستہ آواز میں بتایا کہ وہ قصور وار نہیں ہے چونکہ فیصلہ کرنا میرے اختیار میں نہیں ، میں فیصلہ ساز نہیں ہوں میجر جمروز نے غراتے ہوئے کہا کہ میں صرف ایک میجر ہوں اور اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے کرتا ہوں ، اپنے خاندان کو حلال کا رزق کھلاتا ہوں۔ میجر جمروز کی آواز نے علی کو جیسے نیند سے بیدار کیا۔ وہ اپنے باپ اور انسپکٹر وسیم کی گفتگو اور حیرت سے سننے لگا۔ 


ڈیوٹی؟ رزقِ حلال؟ مذاق ہے کیا؟ انسپکٹر وسیم تقریباً قہقہ لگاتے ہوئے کہنے لگا کہ یہی بات تو ہر ادارے کا ملازم کرتا ہے، پوری کی پوری ضلعی انتظامیہ یہی بات کر رہی۔ مگر میجر صاحب !ریاستی قانون الفاظ کا نہیں بلکہ عمل کا متقاضی ہے اور یہی بات ہمارا دین بھی سکھاتا ہے۔ محکمہ صحت، امورِ حیوانات، زراعت، محکمہ مال، انفارمیشن ٹیکنالوجی، نوجوانان، بلدیات، شاہرات، کمیونیکیشن، سمال انڈسٹریز، تعلیم، پولیس، جنگلات ، فشریز ، ایکسائز و ٹیکسیشن ، عدلیہ، اینٹی کرپشن اور کتنی وزارتیں اور ادارے گن کے بتاؤں جو یہی الفاظ استعمال کرتے ہیں مگر سرا سر حرام کھاتے ہیں۔ 


جعلی ادویات بنانے والی کمپنیوں سے لیکر ڈرگ انسپکٹر، ڈاکٹروں کی کرپشن سے لیکر میڈیکل سٹورز ، فوڈ انسپکٹر سے لیکر ڈپٹی کمشنر ، وزیر سے لے کر صدر و وزیر اعظم اور لینٹ افسران۔۔۔۔۔ کون اس بہتی گنگا میں اپنی مرضی سے ہاتھ نہیں دھو رہا ؟؟ کون کرپٹ نہیں ؟ کون اداروں پہ توجہ دے رہا ہے؟ کون اداروں کی بہتری اور عوامی خدمت کا سوچ رہا ہے؟؟ اور یہ نظام ہے کس کا؟ کون یہ عیاشی اور کرپشن کا نظام چلا رہا ہے؟ آپ کا ادارہ میجر صاحب ! آپ کا ادارہ یہ سارا کرپشن کا نظام چلا رہا ہے چونکہ سب ادارے قانون میں طے شدہ حد کو مان ہی نہیں رہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی اس غیر آئینی بالادستی نے ستیاناس کر کے رکھ دیا۔ اب فوج بھی حفاظت ، حُرمت و کردار دیکھنے کی بجائے ہر کہیں مفاد اور کاروبار دیکھتی ہے۔ اب فوج کاروباری فرمیں چلاتی ہے۔ ہاوسنگ سوسائٹیز سے لیکر سی ایس ڈی شاپس، بینک سے لیکر انشورنس اور کنسٹریکشن کمپنیاں، گارگو سے لیکر سیمنٹ سریا، آن لائن سٹورز سے لیکر زرعی فارمز، جانوروں کے باڑوں سے لیکر سمگلنگ، فوج اب ہر طرح کی کاروبار میں سب سے بڑی اجارہ دار فرم ہے۔ آپ بتائیں میں جھوٹ کہتا ہوں؟ 


میجر جمروز نے کن اکھیوں سے علی کی جانب دیکھا اور واپس نگاہیں جھکا کر خاموش رہا۔ وسیم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اس سارے عمل میں فوج سے مراد عام سپاہی نہیں ہے چونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک عام سپاہی کو اپنی ڈیوٹیوں سے ہی فرصت نہیں اور نہ ہی کسی سپاہی کو ان سبھی کاروبار میں سے کوئ آمدن ہوتی ہے۔ کرپشن کی مد میں فوج سے ہماری مراد وہ فیصلہ ساز جنرلز ہیں جو اس سارے کاروبار سے منافع کماتے ہیں۔ بیچارے عام سپاہی کو تو صرف تنخواہ ہی ملتی ہے اور اسی لیے جب صوبیدار تک کے لوگ جب ریٹائر ہوتے ہیں تو اُن کا بقیہ مستقبل کسی پرائیوٹ کمپنی میں سیکورٹی گارڈ کی نوکری ہی ہوتی ہے اور ایک جنرل جب ریٹائر ہوتا ہے تو وہ نہ صرف بیرون ملک جا کر نہ صرف ملٹی نیشنل کاروبار کھولتا ہے بلکہ بالکل آسانی سے پورے کے پورے جزیرے خرید کر بقیہ زندگی مزید عیاشی سے گزارتا ہے اوپر سے پینشن اور دیگر مراعات الگ۔۔۔۔۔۔ 


میجر جمروز کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس انسپکٹر کو کیسے چُپ کروائے۔ وہ جانتا تھا کہ وسیم کا ایک ایک لفظ سچ ہے مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس میں وہ قصور وار نہیں چونکہ یہ سارا کام اس کے بہت اوپر کے لیول کا ہے۔ وہ تو صرف حکم کا پابند ہے اور ایک کمپنی کی کمان کر رہا ہے مگر ادارے کی بابت جو وسیم کہہ رہا ہے وہ بھی ایک حقیقت تھی۔ 


کچھ دیر کمرے میں خاموشی چھائ رہی۔ پولیس اہلکار خاموشی سے چائے پیالیوں میں ڈال کر واپس ہوا۔ چائے کی چُسکی لیتے ہوئے وسیم نے میجر جمروز کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ مجھ سے ناراض مت ہوں میرا مقصد آپ کی ذات پہ کیچڑ اچھالنا، آپکا دل دُکھانا یا آپکے ادارے کی خدانخواستہ بے عزتی کرنا نہیں ہے بلکہ میں وہ چند حقائق آپکے سامنے رکھ رہا ہوں جو کہ عام فہم ہیں۔ یعنی ریاست کا قانون تحریری شکل میں موجود ہے اور ہر ملازم ہر ادارے کا رول لکھ دیا گیا ہے مگر اُس طے شُدہ دائرے کو کوئ بھی ادارہ ملحوظِ خاطر نہیں رکھ رہا اور بڑا حصہ آپ کے ادارے یعنی فوج کے ہاتھ میں اس لیے آ رہا ہے چونکہ آپ کا ادارہ ہر طرح سے باقی تمام اداروں سے نہ صرف مضبوط ہے بلکہ عملا ملک کا پکا ٹھکا حُکمران ہے۔ یہ حکومتیں ، ادارےآپ کے اشاروں پہ ناچتے ہیں۔ اگر صرف آزادکشمیر کی بات کی جائے تو یہ پورا علاقہ پاکستان کے کئ اضلاع سے بھی چھوٹا ہے اور پاکستانی اضلاع کو صرف ایک ڈپٹی کمشنر اپنی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ چلا رہا ہے مگر یہاں 53 اسمبلی ممبران کی لمبی چوڑی فوج کے ساتھ بھاری بھرکم بیوروکریسی رکھ کر ریاست کے اس حصے کو جسے آزادی کا بیس کیمپ بنایا گیا تھا کو دیکھتے ہی دیکھتے کرپشن کا گڑھ اور اقتدار کی ہوس کا ریس کیمپ بنا دیا گیا۔ یہاں کے افسران کو وہ عیاشیاں اور سہولیات میسر ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کے وزراء اعظم کو بھی میسر نہیں۔ اور حقیقتا یہ خطہ کرپٹ بیوروکریسی کی جنت بنا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے سیاستدان، یہاں کے افسران، بیوروکریٹ ہر ممکن طور پر اس فرسودہ نظام کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تاکہ عوام پسماندہ اور جاہل رہے اور انکی عیاشیاں چلتی رہیں۔ 


اتنی بڑی وزراء و اسمبلی ممبران کی فوج، افسران و بیوروکریسی کی ان گنت تعداد کے ہوتے ہوئے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر کسی شہری کو چھینک بھی آتی تو پانچ وزیر ڈاکٹروں و ایمبولینس سمیت حاضر ہوتے مگر حالات آپ کے سامنے ہیں کہ ہر ادارہ اپنی ذمہ داریاں کُھو کھاتے میں ڈال کر سیاست چمکاتے ہوئے صرف کرپشن کر رہا ہے جسکی وجہ سے نہ صرف ادارے اپنی مکمل ساکھ کھو چُکے ہیں بلکہ یہ ادارے اور سیاستدان عوامی ترقی و فلاح میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چُکے ہیں ۔۔۔۔ اور انہیں آپ کے معزز اور طاقتور ادارے کی مکمل آشیرباد حاصل ہے۔۔۔ یہ کہتے ہوئے انسپکٹر وسیم خاموش ہو گیا تو علی سامنے کُرسی پر بیٹھے اپنے باپ میجر جمروز کو حیرت اور بے یقینی کے انداز میں دیکھتے ہوئے سوچنے لگا کہ کیا عجیب سماج ہے جہاں کتابوں میں کچھ اور حقیقت میں کچھ اور ہے۔ جہاں انسانی حقوق کیا انسانی جانیں بھی ہمیشہ خطرے میں ہیں اور میں اپنے معصوم جیکی کا قاتل تلاش کرنے نکلا تھا۔۔۔۔۔ علی کا جیسے سر چکرانے لگا۔۔۔ 


چکراتی نظروں سے اپنے باپ  میجر جمروز کی طرف مسلسل دیکھتے ہوئے اُسے ایک لمحے کو ایسا لگا کہ جیکی کا قاتل اُس کے سامنے بیٹھا ہے۔۔۔۔۔

Comments