سوشلزم مذہب و کُفر نہيں بلکہ سماجی سائنس ہےتحرير: رضوان اشرف


سوشلزم مذہب و کُفر نہيں بلکہ سماجی سائنس ہے

تحرير: رضوان اشرف

سائنس کا بنيادی اصول يہ ہے کہ چیزوں پہ تحقيق و تجربہ کيا جاتا ہے پھر ثبوت اکٹھے کئے جاتے ہيں اور پھر اُن ثبوتوں کی بنياد پر بار بار تجربہ کر کے جو ايک نتيجہ سامنے آتا ہے اُسے سائنس ايک قانون کے طور پر مان لیتی ہے تاوقتيکہ اُس سے کوئ بہتر ثبوت سامنے آ جاۓ۔ يعنی سائنس ميں کوئ چيز نہ تو حتمی ہے نہ حرفِ آخر بلکہ ہر چيز کو ثبوت کے سانچے پر پرکھا جاتا ہے اور چيزيں عمل ميں ڈھل کر انسانی زندگيوں کو نہ صرف آسان کرتی ہيں بلکہ مزيد ترقی کے راستے بھی ہموار کرتی ہيں۔ ادویات ہوں علاج معالجہ کہ سفری سہولتيں، معلومات کے سينٹرالائزڈ انبار ہوں کہ رابطوں کی دُنيا ، فلسفہ ، فزکس، کيمسٹری، بيالوجی ، ٹيکنالوجی الغرض ہر ميدان ميں ترقی اور انسانی آسانی آج کسی سے ڈھکی چھپی نہيں بلکہ انسان آج دوسرے سیاروں پر رہنے کا سوچ رہا ہے تو يہ سب سائنس ہی کی ترقی کی بدولت ہے۔ سائنس کی اس ترقی نے آج ايک عام انسان کو وہ طرزِ زندگی عطا کر ديا ہے جو کسی زمانے ميں صرف بادشاہوں کو ميسر تھا يا زياہ پرانے ادوار ميں اُنہيں بھی ميسر نہ تھا۔ مگر سائنس کوئ مذہب نہيں کوئ عقيدہ يا دين نہيں بلکہ ثبوتوں کا ايک ايسا اصول ہے جسے عمل کی کسوٹی سے ہی گزرنا ہے۔انسان بيمار ہوتا ہے تو علاج کے ليے ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ مريض کو ڈاکٹر کے مذہب سے کوئ غرض نہيں ہوتی۔ ڈاکٹر مريض کو دوائ تجويز کرتا ہے تو کوئ بھی مريض دوائيوں کا مذہب ديکھتا ہے؟ کيا ڈسپرين کی گولی يا کورونا کی ويکسين کا کوئ مذہب ہو بھی سکتا ہے؟ جب کيمسٹری ، بائيالوجی کی تخليق کردہ انسانی زندگی بچانے والی کسی دوائ کا کوئ مذہب نہيں ہوتا ، فزکس کی ايجاد کردہ گاڑی، ريل، ميٹرو، ہوائ جہاز کسی مذہب کے ٹھپے سے مبرا ہيں تو سماجی سائنس کی تخليق سوشلزم پہ مذہب يا لادينيت کا ٹھپہ کيسے اور کيوں ؟؟ 

سوشلزم کوئ عقيدہ نہيں کہ اسے کسی مذہب يا دين سے تقابلہ کروايا جاۓ بلکہ ايک سائنس ہے بالکل کيمسٹری بائيالوجی اور فزکس کی طرح کی سائنس۔ مذاہب و عقيدوں کی تاريخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی زندگی کی۔ مذاہب اور عقائد پہلے سے طے شُدہ قوانين، اصولوں و ضوابط پر مشتمل ہوتے ہيں جنہيں کسی بھی دور ميں کوئ بھی شخص اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق تبدیل نہيں کر سکتا۔ اسلام ہی کو لے ليں چونکہ سوشلزم پر کُفر کے سب سے زيادہ فتوۓ اسی مذہب سے نسبت ظاہر کرنے والے کم علم لوگوں کی جانب سے لگاۓ جاتے ہيں۔ نبیِ آخر الزمان محمدِ عربی صلم پر قُرآن آج سے 1400 سال پہلے اُترا اور اسلام مکمل ہوا ، کيا آج 2025 ميں آپ اپنی ذاتی يا سماجی ضرورت يا سہولت کے اعتبار سے اسلام ميں کسی طرح کی کوئ ترميم کر سکتے ہيں ؟ بالکل نہيں !! عقيدے پہلے سے طے شُدہ اصول و قوائد ہيں جن پر انسان کو صرف عمل کرنا ہے اُسے تبديل کرنے کی کسی صورت اجازت نہيں ہے جبکہ سائنس 1400 سال پہلے کسی اور سٹيج پر تھی اور آج 2025 ميں بالکل مختلف اور ترقی يافتہ سٹيج پر ہے۔ انسان نے جب سے تاريخی سفر شروع کيا اُس نے بے شمار ادوار ديکھے يعنی انسان ہزاروں سال غلامی داری عہد کے اندر پرورش پايا مگر اُس کا عقيدہ وہی رہا پھر ارتقاء کر کے جاگيرداری نظام ميں ہزاروں سال تک زندہ رہنے لگا مگر اُسکا عقيدہ اور مذہب وہی رہا کسی بھی طرح تبديل نہيں ہوا اور پھر ترقی کر کے آج کے سرمايہ داری نظام کے اندر کھڑا ہے مگر اُسکا عقيدہ آج بھی وہی ہے بالکل بھی تبديل نہيں ہوا۔ تو کيا سائنس جو آج سے 2000 سال پہلے تھی آج 2025 ميں بھی وہی ہے ؟؟ 

سائنس ايک ايسا علم ہے جو آپکی سماجی ضرورتوں کے اعتبار سے طے شُدہ قوانين يعنی ثبوتوں کی بنياد پر تبديل ہوتا ہے اور اپنے آپ کو کسی بھی قيمت حتمی نہيں کہتا جبکہ عقيدہ حتمی و آخری ہے۔ ترقی يافتہ انسانی زندگيوں کی ہر موجود سہولت سائنس کی ترقی و تبدل ہی کی وجہ سے ہے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائيں جس دُنيا ميں يعنی قوموں اور وطنوں کی دُنيا ميں آج ہم رہتے ہيں تو کيا سرحدوں کی تقسيم کوئ مذہبی معاملہ ہے؟ کيا رياستيں کسی مذہب کی تخلیق ہيں يا موجودہ ٹريفک و ديگر نظام مذاہب کی دين ہيں ؟ بالکل نہيں يہ سب کُچھ انسان کا اپنی ضرورتوں و سہولتوں کی وجہ سے ہے جس ميں تبدل بنيادی اور اہم جُزو ہے مگر مذہب ميں تبدل قطعی حرام ہے۔ پہلی بات تو يہ ہے کہ سوشلزم جيسی سماجی سائنس کو مذہب سے تقابلہ کروانا جہالت ہے۔ اگر سوشلزم کو مذہب سے تقابلہ کروانا ہے تو پھر فزکس کو بھی مذہب سے تقابلہ کروائيں اور فزکس کی جتنی بھی ايجادات ہيں اُنہيں حرام قرار دے کر خُود کو الگ کريں اور يہی بات باقی سائنسی برانچوں اور اُنکی ایجادات کے لئے بھی اپنائيں۔ مگر ايسا نہ کبھی ہُوا نہ کبھی ہو سکتا ہے چند مذہب کے نام نہاد فہم رکھنے والے ٹھکيداروں نے ايسا کرنے کی کوشش کی مگر سائنسی ترقی اُن کے موٹے پيٹوں اور خالی دماغوں کے اوپر سے اُنہيں لات مار کر گُزر گئ۔ لاؤڈسپيکر کو حرام قرار ديا گيا ريل گاڑی و موبائل فون کافر قرار دیے گۓ ٹيلی ويژن حرام ہوا تو پھر عملًا کيا ہُوا؟؟ لکير پيٹنے کی بجاۓ اللہ تعالی کی عطا کردہ عقل کو ہاتھ مارنے کی ضرورت ہے کہ سوشلزم سماجی سائنس ہی ہے کوئ عقيدہ نہيں۔ 

سوشلزم کے بارے ميں اس سرمايہ داريت کے عہد ميں جتنا وائيات پراپيگنڈہ ہُوا اتنا کبھی بھی ماضی کے کسی دوسرے دور ميں نہيں ہوا۔ يعنی غلام داری و جاگيرداری ميں کبھی مذہب کو خطرہ نہيں رہا چونکہ مذہب آج ہی کی طرح شاہوں کی گود کا بچہ بنايا جاتا رہا اور سوشلزم کی طرح کے کسی متبادل سماجی نظام کی آواز کبھی نہيں اُٹھی۔ مگر اس عہدِ بربريت يعنی سرمايہ داری ميں جسکے بارے ميں قُرآن کُھلے الفاظ ميں کہتا ہے کہ يہ سُودی نظام اللہ اور اُسکے رسول صلم کے خلاف کُھلی جنگ ہے اس نظام ميں ايک متبادل اور انسانی نظام کی آواز لگانے والا نظریہ “سوشلزم “ کافر ہو گيا۔ ايک سچے مسلمان کو تو عملی طور پر اس سُودی نظام کے خلاف جدوجہد ميں سوشلزم کی پہلی صف ميں ہونا چاہيے تھا مگر عقل کو ہاتھ کون مارے؟ اس سُودی نظام کے ٹھکيداروں نے مذہب کی بندوق اپنی جانب پھرنے سے بچا کر سوشلزم يعنی سماجی سائنس کو ہی کافر قرار دے ديا اور شور و غل مچا ہوا ہے کہ سوشلزم کُفر ہے چونکہ يہ اس ظالم سُودی نظام کے خلاف متبادل ہے اور سُودی نظام کے خاتمے کی جدوجہد کرتا ہے۔ 

سوشلزم چونکہ ايک متبادل معاشی و سياسی نظام رکھتا ہے اور اُسکے نفاذ کی جدوجہد کرتا ہے اسليے سرمايہ دار اور اُنکے ہمنواؤں نے سوشلزم کو ايسا عفريت بنا کر عوام کے سامنے پيش کيا ہے کہ سُودی نظام کے جبر اور استحصال چھپاۓ جا سکيں مگر انسانی شعور کی آنکھ جہاں جہاں بھی کُھلی ہے وہ سرمايہ داريت کو ظُلم اور مکروہ نظام کے علاوہ کچھ نہيں سمجھتی۔ 
رياست جموں کشمير کے تناظر ميں ہم ديکھيں تو مذاہب کو خود سے ايک مسئلہ بنا ديا گيا ہے اور مذہبی بنيادوں پر تحريک رياستی تقسيم کا مؤجب بنی ہے۔ خود اندازہ لگا ليں کہ رياست کے مختلف حصوں ميں مختلف مذاہب کی اکثريت آباد ہے يعنی جموں ميں ہندو اکثريت، لداخ ميں بودھ اکثريت، گلگت بلتستان ميں آغا خانی، اسماعيلی و نور بخشی اکثريت اور کشمير ويلی اور نام نہاد آزاد کی اس پٹی پر مسلمان اکثريت ميں ہيں تو آپ خود سوچيں کہ رياست کے ايک حصے کی عوام کسی دوسرے حصے کی مذہبی تحريک کا حصہ کيونکر بنے گی؟ اسليے يہاں رياست جموں کشمير کی قومی آزادی و رياستی وحدت کے لئے بھی سوشلزم کے علاوہ کوئ کُليہ موجود نہيں اور اسی لئے اندھيرا پرست قوتيں سوشلزم کے خلاف دہائيوں سے پراپيگنڈہ کر رہی ہيں تاکہ عوام ميں اسکے خلاف نفرت پھيلائ جاۓ اور اسے ديوار سے لگايا جاۓ تاکہ رياستی وحدت و آزادی کا ہر راستہ بند رہے۔  

يہ سرمايہ داروں اور اُنکے آلہ کاروں کا پھيلايا ہوا ايک جھوٹا پروپيگنڈہ ہے کہ سوشلزم کوئ مذہب و عقيدہ ہے اور بالکل کُفر ہے جبکہ رائج سُودی نظام اللہ کی مرضی کے مطابق ہے۔ يہ وہ تاريخی سچاہياں ہيں جنہيں ديکھتے ہوۓ ہر شخص کو سوشلزم کو سماجی سائنس کے طور پر ديکھنا چاہيے جسطرح فزکس ،کيمسٹری ، بائيالوجی و ديگر سائنس کی برانچز موجود ہيں۔ عوام کو شعور کا عملی مظاہرہ کرتے ہوۓ اس قاتل سُودی نظام کو للکارنا چاہيے اور اسکے خاتمے کے لئے سوشلزم کو مضبوط سے مضبوط تر بناتے ہوۓ نہ صرف اپنے حق کے لئے کھڑے ہوں بلکہ سرمايہ داروں و اُنکے مخصوص آلہ کاروں کے خلاف آواز بلند کريں اور ايک انسانی سماج تخليق کرنے کی بنيادوں پر کاوش کرتے ہوۓ سوشلزم کے ہم رکاب ہوں تاکہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوۓ ايک مساوی اور انسانی معاشرے کی تخليق کے لئے اپنا حصے کا کردار ادا کيا جا سکے۔

Comments